پاکستان عوامی تحریک کے متعلق
  • پاکستان عوامی تحریک کا قیا م 25 مئی 1989ء میں قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی قیادت میں تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر معرض وجود میں آیا۔
  • قیام کے فوری بعد 1990 ء کے جنرل الیکشنز میں حصہ لیا۔
  • پاکستا ن عوامی تحریک، تحریک استقلال اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا اشتراک عمل معرض وجود میں آیا او ر "اعلامیہ وحدت" جاری کیا گیا۔ اس دوران ایک قومی سطح کا اتحاد بھی تشکیل پایا جس کے سربراہ نوابزادہ نصراللہ خان اور وائس چیئرمین قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری بنے اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی اس اتحاد میں شامل ہوئیں۔ اس مرحلہ پر 30 نکاتی منشور "اعلان لاہور" جاری کیا گیا۔ ملک کے طول و عرض سے بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
  • 1990 ء کے الیکشن کے نتائج نے یہ حقیقت آشکار کی کہ ملک کی انتخابی سیاست مقتدر قوتوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، نوابوں، قبضہ گروپوں، مافیااور بدعنوان عناصر کے شکنجے میں ہے۔ لہذٰا قائد تحریک نے سال 1993ء میں انتخابی اصطلاحات کا متناسب نمائندگی کا پیکج پیش کیا م گر الیکشن کمیشن نے اس مجوزہ نظام کو نافذ نہ کیا تو پاکستان عوامی تحریک نے نتیجہ اخذ کیا کہ مروجہ سیاسی انتخانی نظام کے ذریعے ملک کے نظام میں تبدیلی لانا تو درکنار قوت نافذہ بھی حاصل کرنا ناممکن ہے جس کی بڑی وجہ غربت و جہالت ہے۔ لہذٰا پاکستا ن عوامی تحریک نے جنرل ہاؤس کے فیصلے کے مطابق انتخابی جدوجہد کو ترک کرنے کا ارادہ کیا تا کہ پہلے ملک میں تعلیم و شعور کے فروغ کی جدو جہد کی جائے۔ پس اس پسِ منظرمیں 1993ء میں پارٹی کو غیر سیاسی قرار دیکرعظیم الشان عوامی تعلیمی منصوبہ کے ذریعے عوامی کی تعلیم و شعور کی بیداری کی جدوجہد کا آغاز کیا گیا جس کی بدولت سینکڑوں تعلیمی ادارے معرض وجود میں آئے اور زبردست عوام تائید و حمایت حاصل ہوئی۔
  • ملک کی سیاسی جماعتوں بشمول نوابزادہ نصراللہ خان، بے نظیر بھٹو، حامد ناصر چٹھہ اور منظور وٹو نے 1998 ء میں قائد تحریک کو پا کستا ن عوامی اتحاد کی مرکزی صدارت سونپی۔
  • قائد تحریک کی خصوصی کاوشوں سے پاکستان عوامی اتحاد کا 14 نکاتی ایجنڈا "اسلامک سوشل آرڈر" تشکیل دیا گیا۔
  • پاکستان عوامی اتحاد کے ملک کے طول وعرض میں جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے ہمیشہ بھر پور، موثر اور پرجوش انداز میں شرکت کی۔ جس کی بدولت ہر جگہ پاکستا ن عوامی تحریک کے کارکنان چھائے رہے اور ہر پروگرام کی کامیابی تحریکی کارکنان کی مرہون منت ہوتی چلی گئی۔ جس کی وجہ سے تحریک و قائد تحریک سے سیاسی حسد پیدا ہوا نتیجتاً پاکستان عوامی اتحاد ٹوٹ گیا اور اس کی سرگرمیاں ناپید ہو گئیں۔ بعد ازاں پاکستان عوامی اتحاد کی تمام سابقہ جماعتوں، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس GDA بنانے کی دعوت دی۔ لہذٰا پاکستان عوامی تحریک کی میزبانی میں GDA کا پہلا کامیاب کنونشن منعقد ہوا۔
  • بعد ازاں GDA کی سپریم کونسل کی تشکیل ہوئی جس میں تمام بڑی جماعتوں کے سربراہان بشمول قائد تحریک کو مساویانہ نمائندگی دی گئی اور "گو نواز تحریک" کا آغاز ہو ا جو کہ GDA کے ملک کے طول و عرض کے جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کے ذریعے کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ GDA میں بھی پاکستان عوامی تحریک کی قیادت اور اس کے کارکنان نے اپنی شرکت تعداد اور جوش و جذبہ سے ہر سطح پر شرکت کر کے اپنا لوہا منوا لیا۔
  • پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے 2001ء کے لوکل گورنمنٹ الیکشنز کے تمام مراحل میں عوامی گروپ کے نام سے حصہ لیا۔ قائد تحریک نے چاروں صوبوں کے اضلاع سے لیکر یونٹ سطح تک کے بھر پور دورے کئے۔ جس کے نتیجہ میں انہیں شاندار اور نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں جس کے نتیجہ میں عوامی گروپ دو اضلاع شیخوپورہ اور منڈی بہاؤالدین میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹس اور 12 تحصیلوں گوجر خان، میانوالی، مری، کہروڑ، جھنگ، شورکوٹ، راولپنڈی، سوہاوہ، پنڈدادنخان، پنڈی گھیپ اور چوآسیدن شاہ میں تحصیلی گورنمنٹس بنانے میں کامیاب ہو گیا جبکہ 15 اضلاع میں عوامی گروپ کی حمایت یافتہ ضلعی و تحصیلی حکومیتں معرض و جود میں آئیں۔ لوکل گورنمنٹ الیکشن میں عوامی گروپ ایک فیصلہ کن ووٹ بنک کے طور پر سامنے آیا۔ اس طرح ملک کے طول وعرض میں عوامی گروپ کی ایک بڑی تعداد ممبرز ضلع کونسلرز، ممبر تحصیل کونسل، ناظمین، نائب ناظمین و کونسلرز منتخب ہوئے جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی۔
  • لاہور کے ضلعی سطح کے الیکشن منعقدہ 2 اگست 2001ء میں عوامی گروپ 93 ووٹس ملے، جس کی وجہ سے کسی بھی جماعت کے لئے PAT کے تعاون و حمایت کے بغیر ضلعی حکومت بنانا ناممکن ہوگیا۔
  • عوامی گروپ کے ووٹ بنک کے 16 اضلاع میں فیصلہ کن و بادشاہ گری کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی جس کی وجہ سے PAT کا مرکزی سیکرٹریٹ حکومتی و اپوزیشن کی آمد کا مرکز بن گیا۔
  • 8 اگست 2001ء کو عوامی گروپ کی حمایت کی وجہ سے قائداعظم گروپ کو لاہور اور 10 اضلاع لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، اٹک، نارووال، اوکاڑہ، ساہیوال، لیہ، راولپنڈی اورقصور میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بقیہ اضلاع میں عوامی گروپ سے قبل ازیں اتحاد کی وجہ سے دیگر گروپس کو گوجرانوالہ، جھنگ، سرگودھا، منڈی بہائوالدین اور ملتان میں کامیابی حاصل ہوئی۔
  • لوکل گورنمنٹ الیکشنز کے بعد پاکستان عوامی تحریک نے جنرل الیکشنز کی تیاری شروع کر دی۔ قائد تحریک نے عوامی امنگوں کا ترجمان منشور "سب سے پہلے عوام" پیش کیا۔ قائد تحریک نے ملکی و قومی بحرانوں کو حل کرنے اور ریاستی اداروں کی اصلاح کے لیے متعدد سیاسی، آئینی، قانونی، اقتصادی، احتساب انتخابی و سماجی پیکج پیش کیے۔
  • 2002ء میں پاکستان میں 144 سیاسی پارٹیوں نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کروائی جبکہ 76 سیاسی پارٹیوں نے الیکشن میں حصہ لیا مگر ان میں سے صرف 14 سیاسی جماعتیں اور انتخابی اتحاد پارلیمانی پارٹیاں بن سکیں۔ ان پارٹیوں میں ایک کنگز پارٹی اور ایک کنگز الائنس تھا جبکہ دیگر پارٹیز میں سے ایک مذہبی جماعتوں کا الائنس تھا جسے بھی حکومتی سرپرستی حاصل تھی اور جوان پارٹیز پر مشتمل تھا جو نصف صدی سے انتخابی سیاست کر رہی ہیں اور کئی صورتوں میں شامل اقتدار رہی ہیں جبکہ دو سیاسی جماعتیں وہ تھیں جو کہ تین تین مرتبہ اقتدار حاصل کر چکی ہیں اور ان کے سربراہان / بانیان پہلے اقتدار میں آئے پھر پارٹیاں بنائیں۔ ان تمام پارٹیوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدواران میں سے اکثریت کا تعلق بڑے جاگیردار، سرمایہ دار اور سیاسی خاندانوں سے تھا جن کے کئی دھایوں سے آبائی حلقے بن چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کامیابی کے لئے کروڑوں روپے ایک ایک حلقہ پر صرف کئے جبکہ تین پارٹیز کے امیدواران کو سندھی، مہاجر اور افغان ایشوز کی بنیاد پر ووٹس حاصل ہوئے مگر سرمایہ، اثرورسوخ اور سیاسی اجارہ داری نے یہاں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
  • ان حالات میں پاکستان عوامی تحریک کی پارلیمانی وجود کا آغاز ہو گیاکہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو جنرل الیکشن 2002 ء میں لاہور کے حلقہ NA.127 سے کامیابی حاصل ہوئی۔
  • قائد تحریک نے 15 اکتوبر 2004 ء کو قومی اسمبلی میں صدر کی دوہری "وردی" کے بل کے موقع پر قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلی کی رکنیت سے بطور احتجاج مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا یہ قدم فی الواقع ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی دوسری مثال قائداعظم کے سوا اور کہیں نہیں ملتی جو اصولوں پر سودے بازی نہ کرتے ہوئے قبل از تقسیم ایک سیاہ قانون کے پاس ہونے پرمستعفی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات پر مبنی ایک تاریخی 72 صفحات پر مبنی دستاویز سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کی جس میں قومی اسمبلی کے کردار کا اچھی طرح تجزیہ پیش کیا گیااور اس میں پس پردہ سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ان حقائق کی روشنی میں استعفیٰ پیش کرتے ہوئے قائد تحریک نے 150 اپوزیشن اراکین اسمبلی سے بھی کہا کہ وہ بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں۔ قائد تحریک کے اس استعفیٰ سے عوام الناس، سیاسی وصحافتی حلقوں میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ عوامی حلقوں نے قائد تحریک کے اس فیصلے کو سراہا اور جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔
  • ٭ قائد تحریک کے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ سے قبل اور بعد کی وسیع تر مشاورت اور 16 مارچ2003ء کے جنرل باڈی کے فیصلے کے نتیجے میں پاکستان عوامی تحریک سیاسی، سماجی و اقتصادی احوال کی اصلاح، نظام کی تبدیلی، عوامی شعور کی بیداری، انسانی حقوق و رفاہ عام، عوامی تعلیمی مراکز کا قیام، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل تجویز کرنے، مزدوروں، کسان اور مظلوموں کے حقوق تحفظ، حقوق نسواں اور بد عنوانی کے خاتمہ قرآن و سنت کے نظام قانون کی بالادستی، فروغ شعور، انسانی حقوق کا تحفظ، قانون کی حکمرانی، امن و سلامتی، احتساب کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے لوکل گورنمنٹس الیکشن 2005 ء میں بھی ذاتی حیثیت میں شرکت کی۔

جدوجہد کا لائحہ عمل

  • قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے استعفیٰ کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے لیے قومی ایجنڈا طے ہوا کہ پاکستان عوامی تحریک درج ذیل 11 نکاتی ایجنڈے کے حصول کیلئے اپنی جددجہد جاری رکھے گی۔
  • سماجی و اقتصادی احوال کی اصلاح
  • نظام کی تبدیلی
  • عوامی شعور کی بیداری
  • انسانی حقوق
  • رفاہ عامہ
  • عوامی تعلیمی مراکز
  • عوامی مسائل کو اجاگر کرنا
  • مزدوروں، کسانوں اور مظلوم طبقات کے حقوق کا تحفظ
  • حقوق نسواں
  • بدعنوانی کا خاتمہ
  • سیاسی رابطے

سالانہ شیڈول

پاکستان عوامی تحریک اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے ہر سال درج ذیل قومی سطح کے سیمینار کا انعقاد کرتی ہے:

  • یوم مئی
  • ماہ مئی
  • بجٹ سیمینار
  • ماہ جون
  • اعتکاف روحانی اجتماع میں VVIPs کی بھر پور شرکت اور اہتمام میں معاونت
  • ماہ اگست
  • یوم آزادی
  • ماہ اگست
  • یوم دفاع
  • 6 ستمبر
  • یوم اقبال
  • ماہ نومبر
  • یوم قائد اعظم
  • ماہ دسمبر
  • MCDF کے تحت کرسمس تقریب
  • ماہ دسمبر
  • یوم کشمیر
  • ماہ فروری
  • قائد ڈے
  • ماہ فروری
  • مرکزی میلاد و ضیافت ہائے میلاد میں VVIPs کی بھر پور شرکت اور اہتمام میں معاونت
  • ماہ فروری
  • یوم پاکستان
  • ماہ مارچ
  • یوم تاسیس پرورکرز کنونشن / امن کانفرنسسز کا انعقاد
  • ماہ مئی

تحریک کے پروگراموں اور مہمات کے اہتمام میں معاونت

ملکی قومی و بین الاقوامی عوامی ایشوز پر بوقت ضرورت آل پاکستان پارٹیز، کانفرنسسز، سیمینار، جلسے، ریلیاں، اور احتجاجی مظاہرے وپریس بریفنگ کا اہتمام

موجودہ نظام انتخاب کی تبدیلی کے لئے پاکستان عوامی تحریک کا لائحہ عمل

  • موجودہ کرپٹ انتخابی نظام کی وجہ سے قوم اپمے بنیادی آئینی و بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو گئی ہے۔ لہذاپاکستان عوامی تحریک اپنی تحریک بیداری شعور کے ذریعے مہم چلا کر یہ توجہ دلا رہی ہے کہ یہ ملک و قوم کے ریاستی و مقتدراداروں بشمول عدلیہ، قانون ساز اداروں، پارلیمنٹ، میڈیا، سیاسی جماعتوں، دانشور و وکلاء طبقات کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس انتہائی اہم قومی حساس مسئلہ کے حل پر توجہ دیں اور ملک و قوم کو موجودہ کرپٹ انتخابی نظام سے چھٹکارہ دلا کر شفاف نظام انتخاب مہیا کریں۔

2008 ء کے جنرل الیکشن سے قبل مجوزہ اقدامات کا مطالبہ

پاکستان عوامی تحریک 2008 ء کے جنرل الیکشن سے قبل مجوزہ اقدامات کے نفاذ کا مطالبہ کیا کہ متناسب نمائندگی کے پارلیمانی انتخابی نظام کے بآسانی نفاذ کے لئے آئین کے آرٹیکل (A) (4) 51 میں ترمیم درکار ہے اس کے لئے PAT نے ایک مکمل آئینی اصطلاحات کا پیکج پیش کیا۔

پاکستان عوامی تحریک نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں انتخا بی نظام کو شفاف اور سستا بنانے کے حوالے سے مثبت تجاویز پیش کر دیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے قوانین میں ضروری ترامیم کراکے ان اصلاحات کو قانون کا حصہ بنایا جائے اور اسکی خلاف ورزی کو الیکشن جرم قرار دیا جائے۔

پاکستان عوامی تحریک کا لائحہ عمل بسلسلہ الیکشن2008ء

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جنرل الیکشن 2008ء کا حتمی ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کی انتہائی حقیقت پسندانہ اور موئثر تجاویز کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ جسکی بناء پر پاکستان عوامی تحریک کی جنرل کونسل نے فیصلہ کیا کہ پاکستان عوامی تحریک بحیثیت جماعت جنرل الیکشن 2008ء میں اپنے امیدوار نامزد نہیں کرئے گی اور پاکستان عوامی تحریک کسی انتخابی اتحاد کا حصہ بھی نہیں بنے گی لیکن پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان اور وابستگان اپنا حق رائے دہی ضرور استعمال کریں گے۔ البتہ پاکستان عوامی تحریک کی تحصیلی تنظیمات کے لئے جنرل الیکشن 2008ء میں علاقائی سطح پر کسی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کا اجتماعی فیصلہ کرنے کے لئے مربوط ضابطہ تشکیل دے دیا گیا۔

  • پاکستان عوامی تحریک نے اپنے ''حقیقی تبدیلی ''و''حقیقی جمہوریت''کے لئے انتخابات کی تبدیلی کو لازم و ملزوم قرار دیا اوراس کے لئے ملک گیر سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک تحقیقی کتابچہ ''انتخابات یا انتخابی نظام''شائع کر کے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا۔
  • کسی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کے اجتماعی فیصلہ کر نے کی پالیسی نے پاکستان عوامی تحریک کو ایک مرتبہ پھر ''فیصلہ کن ووٹ بنک طاقت''بنا دیا۔ ملک کے طول و عرض میں پارٹی کی تحصیلی تنظیمات نے جن جن امیدواران کے حق میں اجتماعی ووٹ دینے کے فیصلے کئے ان امیدواران میں سے ایک بڑی واضح اکثریت الیکشن جیت گئی۔ لیکن ہماری پارٹی تنظیمات کی حمایت سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی ہمارے قومی ایجنڈے کے بجائے اپنی اپنی پارٹی کے اور مفاد پرست سیاست کے فروغ میں لگ گئے اور کوئی نتیجہ خیزی و تبدیلی کے اثرات میسر نہ آسکے۔
  • یہ امر قابلِ ذکرہے کہ قائد تحریک کے دئیے گئے 11نکاتی قومی ایجنڈے پر پاکستان عوامی تحریک نے اپنا سفر استقامت سے جاری رکھا۔
  • ملکی، قومی و عوامی ایشوز پر پاکستان عوامی تحریک قوم کی حقیقی آواز بن کے ابھری اور آل پاکستان پارٹیز کانفرنسسز، قومی سیمینارز، بڑے جلسوں، عظیم الشان اجتماعی ریلیوں، ملک گیر مظاہروں، اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کوریج کے ذریعے قومی مسائل اور ان کے حل کو اجاگر کیا۔
  • نیشنل پیس کونسل اور مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم اور عوامی لائرز موومنٹ پاکستان، عوامی داد رسی سیل اور تھینک ٹینک تشکیل دیئے گئے۔ عدلیہ کی بحالی کی وکلاء تحریک کی ریلیوں، جلسوں، دھرنوں اور بھوک ہڑتال کیمپوں میں بھرپور شرکت کی، بار کونسلوں کے انتخابات میں بھر پور حصہ لیاگیا۔
  • عوامی تحریک نے اپنے تنظیمی نیٹ ورک کو منظم کرنے کے لئے خصوصی توجہ دی اور تحریک کی دینی، روحانی تعلیمی، سماجی، ویلفیئر اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں باقاعدہ ہفتہ وار و ماہانہ پروگرامز کا سلسلہ جاری کیا۔

پاکستان عوامی تحریک کا لائحہ عمل بسلسلہ الیکشن 2013ء

پاکستان عوامی تحریک اپنے آغاز سے ہی ''حقیقی تبدیلی''اور''حقیقی جمہوریت''کے لئے کوشاں ہے جس کے لئے موجودہ کرپٹ نظام انتخابات کی تبدیلی کو لاز م و ملزوم سمجھتی ہے لہذاپاکستان عوامی تحریک نے آئندہ عام انتخابات سے قبل سال 2011ء میں موجودہ کرپٹ، مہنگے اور فرسودہ انتخابی نظام کا مکمل تنقیدی جائزہ تیار کیااور انتخابی نظام کو ارزاں، شفاف و جدید بنا کر اہل و متوسط طبقے کی پارلیمنٹ میں اکثریت کو ممکن بنانے کے لئے آئینی، قانونی و انتخابی اصطلاحات کا عملی خاکہ تیار کیا۔

تحریک بیداری شعور کا قیام

پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ملک میں ''حقیقی تبدیلی''اور ''حقیقی جمہوریت''کے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے ملک گیر ورکرز کنونشن اور فیڈرل کونسل میں 9 اپریل 2011ء کو ''تحریک بیداری شعور'' کے قیام کا اعلان فرمایا اور اس تحریک کی کامیابی کو ملک و قوم کی نجات قرار دیا۔ ''تحریک بیداری شعور'' کے فروغ کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیاجس کے تحت ملک گیر سطح پر بھر پور تحریک چلانے کے لئے ایک بھرپور ایکشن پلان مرتب کیا گیا۔ اس الیکشن پلان کے تحت لاہور کے ناصر باغ اور راولپنڈی کے لیاقت باغ میں تحریک اور پاکستان عوامی تحریک کے بڑے بڑے عوامی جلسے منعقد کئے گئے جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس طرح انتخابی نظام می تبدیلی کے ایجنڈے پر قومی tv چینلز نے قائد ِتحریک کے انٹرویوز ریکارڈ کر کے پیش کئے۔


Your Comments

منہاج القرآن
منہاج ویلفئیر
منہاج اوورسیز
منہاج سسٹرز
اسلامک لائبریری
خطابات
ماہنامہ منہاج القرآن
ماہنامہ دختران اسلام
کاپی رائٹ © 1989 - 2019 پاکستان عوامی تحریک. جملہ حقوق محفوظ ہیں.