پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک رہنمائوں کے خطابات

پاکستان عوامی تحریک کے تحت ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ حکمرانوں نے پر امن کارکنوں اور نہتے سول سوسائٹی کے افراد کا قتل عام کر کے ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی انتہا کی ہے۔ جس کے نتیجے میں 14 شہادتیں اور سوا سو کارکن زخمی ہوئے۔ گوشہ درود میں بیٹھے درود شریف پڑھنے والوں کو شدید زد وکوب اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سیکرٹریٹ اور میری رہائش گاہ کے گرد محلے داروں کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن کے جواب میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ماڈل ٹائون پولیس نے حفاظتی رکاوٹیں خود لگائیں تھیں۔ جس کے خلاف آج تک کوئی عدالتی احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے اپنے نشہ اقتدار میں قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر توہین عدالت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16، 17 جون کی رات ہزاروں پولیس اہلکاروں کی مدد سے زبر دستی رکاوٹیں ہٹانا مذموم مقاصد کی تکمیل ہے۔ کیونکہ حکمرانوں کے حکم پر پنجاب پولیس کی بھاری نفری آنسو گیس، بلڈوزر، بکتر بند گاڑیاں اور ماہر نشانہ باز آپریشن میں شریک ہوئے جس سے سانحہ ماڈل ٹائون پیش آیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ رات ڈیڑھ بجے سے دوپہر تک آنسو گیس، لاٹھی چارج کے باوجود پنجاب پولیس سات بار پسپا ہوئی۔ اس کے بعد اوپر سے پولیس کو پر امن کارکنوں پر سیدھی اندھا دھند فائرنگ کرنے کا حکم ملا جس کے تحت پولیس کی وردیوں میں ملبوس ریاستی دہشت گردوں نے 125 کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایاآخر کار پولیس کے ماہر نشانہ باز میری رہائش گاہ کے قریب ہمسایوں کی چھتوں پر چڑھ گئے۔ جنہوں نے میرے گھر کی بالائی منزل پر واقعہ بیڈ رومز کے اندر بیڈز کو کھڑکیوں اور روشن دانوں سے چھلنی کر دیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اس ظلم و بربریت کے وقت میرے کارکنوں اور میرے بیٹوں نے برداشت اور صبر کی انتہا کی اور اپنے مسلح سیکیورٹی گارڈز کو اشتعال انگیزی سے بچاتے ہوئے اندر گھر میں پابند کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی دہشت گردوں نے مرکز میں گوشہ درود کے اندر درود شریف پڑھنے والوں کو بھی شدید زد وکوب کیا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمرانوں نے شمالی وزیرستان کے فوجی آپریشن کو سبو تاژ کرنے کیلئے سانحہ ماڈل ٹائون کرایا۔ جس میں پر امن کارکنوں کا قتل عام کرا کر ریاستی دہشت گردی کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون پاکستان کی تاریخ کا انتہائی درد ناک باب ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس واقعہ کا ذمہ دارہے۔ انہیں چاہیے فوری استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست کا نہیںانسانیت کا مسئلہ ہے۔ ظلم یہ ہے کہ قاتلوں نے مظلوموں پر ہی FIR درج کرا دی۔

میاں محمود الرشید نے کہا کہ انہوں نے 17جون کو سانحہ کے وقت پنجاب اسمبلی میں زبر دست احتجاج کیا اور آئیندہ اجلاس میں اپنی تحریک التوا کے تحت اس اہم ایشو پر بحث کی جائے گی۔

سردار آصف احمد علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے جنرل ڈائر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی تحریک کے پر امن اور نہتے کارکنوں کا قتل عام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداء کا انصاف عدالتوں اور اسمبلیوں میں نہیں بلکہ اللہ کے پاس اور سڑکوں پر ملے گا۔

ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سرکاری دہشت گردی سے پاکستان عوامی تحریک کے پر امن کارکنوں کا قتل عام کرکے انہیں اپنے مشن انقلاب سے دور رہنے کیلئے ڈرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ملوث وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی کے ہوتے ہوئے آزادانہ تحقیقات ممکن نہیں۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ قاتل اعلیٰ ہیں۔ شہدا کے وارثوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انکا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔

شیخ رشید نے کہا کہ واسا کے گڑھے میں گرنے والے بچے کی خبر وزیر اعلیٰ کو ہو جاتی ہے اور اسکے ہمسائے میں 15 افراد شہید 80 افراد کو گولیوں سے زخمی کر دینے کا علم نہ ہونا حیرت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب جماعتوں کو یک نکاتی ایجنڈا پر ان ظالم حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر آ کر ظلم کی رات کے خاتمہ تک جدوجہد کرنی چاہیے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کے حکمران حق حکمرانی کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا حجاب نوچنا اور قتل کرنا مرد نہیں نامرد کرتے ہیں۔ ظالم حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹائون میں یہی کچھ کیا ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے رہنماء نذیر احمد جنجوعہ نے کہا کہ موجودہ ظالم حکمرانوں کی تاریخ ہے جنہوں واجپائی کی آمد پر نہتے کارکنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا اور مارا اور اب سانحہ ماڈل ٹائون میں ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی انتہا کی ہے۔

تحریک ہزارہ کے رہنماء بابا حیدر زمان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون نے غلامی کے دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں انسانیت کا قتل کیا گیا ہے۔

علامہ ابتسام الہی ظہیر نے کہا کہ عوامی تحریک کے پر امن کارکنوں کی شہادت سے قصاص لینا چاہیے۔ 14 شہداء کا مطلب ہے کہ انسانیت کا 14بار قتل عام ہوا ہے۔

علامہ حامد سعید کاظمی نے کہا کہ پہلے دہشت گرد وردیوں میں نہیں ہوتے تھے لیکن سانحہ ماڈل ٹائون میں پولیس کی وردیوں میں ریاستی دہشت گردی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد عوام کے اندر پولیس کے خلاف سخت نفرت پائی جا رہی ہے۔

فاٹا سے اجمل وزیر نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں ملوث حکومتی عناصر ذرا شرمندہ نہیں ہو رہے۔ یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔

جمشید دستی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی بلوچستان کو اسی مشن کیلئے پنجاب تعینات کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن جرم کو چھپاتے ہیں اس لئے سانحہ ماڈل ٹائون کے ذمہ داران کو سڑکوں پر سزا ملے گی۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء احمد رضا قصوری نے کہا کہ حکمران سانحہ ماڈل ٹائون میں براہ راست ملوث ہیں اور جلد تختہ دار پر نظر آ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ و گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے کہا کہ اتنے بڑے قتل عام کی ذمہ داری براہ راست وزیر اعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ جس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی عوامی طاقت سے خوفزدہ ہو کر ریاستی دہشت گردی کی ہے۔ جس سے ان ظالم حکمرانوں کے دن پورے ہو گئے ہیں۔

سندھ کے ایم پی اے مائیکل جاوید نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی وجہ سے میں نے مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دے دیا ہے اور بہت سارے مسلم لیگ ن کے عہدیداران استعفیٰ دے کر عوامی تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔

ایم پی اے راحیلہ ٹوانہ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سربراہی میں اگر دہشت گردی کی جائے تو پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا۔

مسیحی رہنماء جے سالک نے کہا کہ مارشل لاء کی گود میں پلنے والے حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹائون پر قتل عام کر کے آمریت کے مظالم کو شرمندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظالم حکمرانوں کی طرف سے 20 کروڑ عوام کو بیدار ہونے کا پیغام ہے۔ ملک بھر کی مسیحی برادری ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ کھڑی ہے۔

سردار رمیش سنگھ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں جلیانوالا باغ کے دکھ اور درد تازہ کر دئیے ہیں، بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

 پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس میں شامل ہونے والی جماعتیں اور قائدین

  • آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہی، عادل شیخ، کامل علی آغا،
  • پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، میاں محمو د الرشید، اعجاز چوہدری،
  • ایم کیو ایم کے ڈاکٹر خالد محمود صدیقی، عبد الرشید گوڈیل، بیرسٹر محمد علی سیف
  • سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا سید جواد الحسن، سردار محمد، وزیر القادری مفتی حسیب قادری
  • جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ اور نذیر احمد جنجوعہ
  • مجلس وحدت مسلمین کے راجہ ناصر عباس،
  • عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد
  • نظام مصطفی پارٹی کے سید حامد سعید کاظمی
  • جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ابتسام الہی ظہیر
  • بلوچستان نیشنل پارٹی کے سید احسان اللہ شاہ
  • فاٹا سے اجمل وزیر خان
  • عوامی اتحاد مظفرگڑھ میاں صدام
  • ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی
  • تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے پیر محمد راشد نقشبندی
  • ٹی ایس ایچ پاکستان کے سردار رمیش سنگھ
  • پاکستان کرسچن پارٹی کے مارٹن جاوید مائیکل
  • مسیحی رہنماء جے سالک
  • آل پاکستان مسلم لیگ کے احمد رضا قصوری
  • آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے علامہ مرزا یوسف حسین
  • تحریک استحکام پاکستان کے سید علی رضا
  • پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سید نو بہار شاہ
  • سوشل جسٹس پارٹی سید اختر شاہ ایڈووکیٹ
  • مسلم لیگ حقیقی کے نوید خان
  • سرائیکستان اتحاد کے خواجہ غلام فرید کوریجہ
  • تحریک صوبہ ہزارہ کے بابا حیدر زمان
  • پاکستان متحدہ کسان محاذ کے رائو طارق اشفاق
  • سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سید غلام شاہ
  • انٹر فیتھ ڈائیلاگ کی شبنم اسلم
  • مجلس چشتیہ پاکستان کے معین الحق علوی
  • سرائیکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رانا محمد اسلم
  • پاکستان مزدور محاذ کے چوہدری شوکت
  • پاکستان غرباء پارٹی کے ممتاز حسین نیازی
  • پاکستان فلاح پارٹی
  • سرائیکی قومی اتحاد پارٹی کے علاوہ پاکستان یونائیٹڈ پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان نیازی گروپ، پاکستان کسان اتحادکے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔


Your Comments

منہاج القرآن
منہاج ویلفئیر
منہاج اوورسیز
منہاج سسٹرز
اسلامک لائبریری
خطابات
ماہنامہ منہاج القرآن
ماہنامہ دختران اسلام
کاپی رائٹ © 1989 - 2018 پاکستان عوامی تحریک. جملہ حقوق محفوظ ہیں.