غریب طلبا کو ٹیکنالوجی کی تعلیم تک مفت رسائی دی جائے: میاں ریحان مقبول
مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے
نائب صدر پاکستان عوامی تحریک کا بے روزگاری کے حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار

لاہور (23اپریل2026) پاکستان عوامی تحریک کے نائب صدر میاں ریحان مقبول نے عالمی بینک کی اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران لاکھوں نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ حکومتوں، پالیسی ساز اداروں اور تعلیمی شعبہ کے لیے واضح وارننگ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بے روزگاری سماجی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ میاں ریحان مقبول نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے، مگر اگر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہ صلاحیت ضائع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف روایتی ڈگریاں موجودہ دور کی ضروریات پوری نہیں کر سکتیں، اس لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر لازمی کیا جائے تاکہ نوجوان عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر لیبارٹریز، انٹرنیٹ سہولیات، ٹیکنیکل کورسز اور جدید تربیتی پروگرام عام کیے جائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقہ بھی اس انقلاب سے مستفید ہو سکے۔
میاں ریحان مقبول نے کہا کہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبہ، آئی ٹی انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف ملک کے اندر روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے لیے زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی بجٹ میں تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی فنی تربیت کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری قومی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو بے روزگاری کے خطرات سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔


تبصرہ